ان کی خرید و فروخت سٹاک ایکسچینج پر شیئرز کی طرح ہوتی ہے اور ان کی قیمت و قدر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ پورے پورٹ فولیو کی کارکردگی کیسی ہے۔
کرپٹو کرنسی کواس کے جاننے والے حضرات کے درمیان مقبولیت عامہ حاصل ہے
،تصویر کا کیپشنجس طریقے سے بٹ کوائن کو بنایا گیا ہے اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ دو کروڑ دس لاکھ کوائن ہی تیار کیے جا سکتے ہیںمضمون کی تفصیل
امریکہ کے اس اقدام سے نئے سرمایہ کاروں جیسے کہ بلیک راک جیسے بڑی کمپنیوں کو یہ اجازت مل گئی ہے کہ وہ بِٹ کوائن کی دنیا میں قدم رکھ سکیں یہ سوچے بغیر کہ ان کے ڈیجیٹل والٹ یا کرپٹو ایکسچینجز کی صورتحال کیا ہے۔
یہی سلسلہ آگے چلا اور اس فکر پر کی کرنسیاں وجود میں لائی گئیں۔
چونکہ اس میں کرنی صارف کی ملکیت اور قبضے میں مجلس العقد میں ہی آجاتی ہے اس وجہ سے اس ٹریڈنگ میں لین دین کرنا جائز ہے۔
جیسے جیسے بٹ کوائن نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے ویسے ہی بڑی حد تک ریگولیٹری تبدیلیوں کی وجہ سے اس کی ملکیت میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور سٹیک ہولڈرز میں ابتدائی مائنرز سے لے کر بڑی کمپنیاں اور افراد شامل ہیں۔
سرمایہ کاروں کو ورایتی کرنسیوں کو ڈیجیٹل کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے اکثر فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
بھوٹان کے بحران کی سب سے قوی علامات میں سے ایک حالیہ برسوں میں نوجوان ، تعلیم یافتہ لوگوں کو دوسرے ممالک میں خارج کرنے کا ایک ہے – اور ان کی رخصتی صرف ملک کی معاشی جدوجہد میں اضافہ کرتی ہے۔
کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی اب تک کی بلوک چین بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں اس اضافے کے لیے امریکی مالیاتی ادارے کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔
ال سلواڈور میں بٹ کوائن کو قانونی حیثیت، عوام میں جوش و تشویش
کرپٹو کرنسیز صارفین کو خود مختاری دیتی ہیں یعنی صارف بنا کسی دباؤ یا پابندی کے خریدوفروخت کر سکتا ہے اور انہیں بینکوں کی فیس بھی نہیں دینی پڑتی جبکہ انٹرنیشنل ادائیگیوں کی فیس بھی بہت کم ہے
لبنان: یو این مشن پر بٹ کوائنز کی قیمت حملے میں فرانسیسی اہلکار کی ہلاکت، میکخواں اور انتونیو گوتریس کی مذمت
دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک نے بٹ کوائن کیوں اپنایا؟